روح افزا کی کہانی

مشروب مشرق جو 115 سال سے مشہور و مقبول ہے۔ مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے کہ جب جون جولائ کی تپتی گرمیوں میں قیلولے کے بعد شام چار پانچ بجے کے قریب گھر میں روح افزا تیار کیا جاتا تھا روح افزا کی بوتل میں بھرے سرخ یاقوتی مشروب کو پانی کے جگ میں ڈالا جاتا۔ ایک گلاس برف سے یخ بستہ سرخ خوشبودار اور شیریں روح افزا،جسم میں ایک عجیب سکون اور ٹھنڈک کا احساس جگا دیتا تھا۔
کسی گھر میں روح افزا بنتا تو پڑوس تک اس کی مہک جاتی تھی۔
موسم گرما میں مہمان گھر آئیں اور ان کی تواضع روح افزا سے نہ کی جائے یہ ممکن نہیں تھا۔
افطار اور روح افزا توگویا لازم و ملزوم تھے۔ رات کو سوتے وقت ایک گلاس دودھ میں تین بڑے چمچ روح افزا مستقل استعمال کرنے سے رنگ صاف ہو جاتا ہے اور دماغی سکون ملتاہے۔آج بھی قلفی اور فالودہ پر روح افزا کی ڈاٹ لگا کر کھایا
جاتا ہے۔ فروٹ کریم چاٹ، فیرنی، کسٹرڈ، کھیر وغیرہ پر بھی
روح افزا کی سرخی اور مہک لطف دوبالا کر دیتی ہے۔ تپتی
گرمی میں لو سے بچائو کے لئے روح افزا کا ثانی نہیں۔۔تربوز
کے شربت میں روح افزا اور تخم بالنگا شامل کر کے ایک
انتہائ نفیس شربت تیار کیا جاتا ہے جو شدید گرمی کا توڑ ہے۔
کچھ لوگ لسی میں بھی روح افزا شامل کر دیتے ہیں۔ گرمیوں
میں خربوزے یا چھوٹے گرمے کو درمیان سے چاک کر کر بیج
نکالنے کے بعد اس میں ملک پیک بالائ ڈالیں اور اس پر روح
افزا ڈال کر چمچے سے کھائیں تو مزہ آجاتا ہے۔۔ اسی طرح
اسٹرا بیریز کو کریم اور روح افزا میں ڈبو کر کھائیں تو اصل
لطف آتا ہے۔۔
گو یہ مشروب تاثیر میں ٹھنڈا ہے لیکن رمضان خواہ گرمیوں
کے ہوں یا جاْڑوں کے ، افطار میں روح افزا ایک لازمی جز کی
حیثیت رکھتا ہے۔پھل فروشوں کی دکان پر آپ کو لازمی روح
افزا بھی ملے گا۔۔مختلف مواقع پر تحفے تحائف کے ساتھ جو
پھلوں کا ٹوکرا جس کو ڈالی بھی کہا جاتا ہے اس میں آپ کو
ست رنگے پھلوں کے ساتھ روح افزا کی بوتل لازمی ملے گی۔مہندی مایوں کی تقریب میں بھیجی جانے والی ڈالی میں بھی
روح افزا کی بوتلوں کی جوڑی لازمی سجائ جاتی ہے۔۔۔
:ہمدرد دوا خانہ
بھارت کے شہر پیلی بھیت کے رہائشی شیخ رحیم بخش کے
یہاں سن 1883 میں بیٹے کی پیدائش ہوئ جس کا نام
عبدالمجید رکھا گیا۔۔ یہی عبدالمجید آگے چل کر حکیم محمد
سعید کے والد بنے۔ آٹھ برس پیلی بھیت میں رہائش کے بعد
شیخ رحیم بخش دہلی کے علاقے حوض قاضی منتقل ہو گئے۔
تعليم سے فراغت پر حکیم حافظ حاجی عبدالمجید بانی
دواخانہ ہمدرد کا نکاح رابعہ بیگم سے ہوا ۔ آپ انتہائی نیک،
اطاعت اور خدمت گزار، نماز و روزہ کی پابند، پردہ کی پابند،
محنتی، وفاشعاراور معاملہ فہم خاتون تھیں۔۔ حکیم محمد
سعید کے والد حکیم عبدالمجید ایک مستقل مزاج شخص تھے۔
آپ کو ادویات کے خواص میں خاص دلچسپی تھی۔ شوق اور
مہارت کے باعث انھوں نے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے
قائم کردہ ہندوستانی دواخانے میں ملازمت کرلی۔ اس عرصے
میں طب کا مطالعہ بڑی گہرائی اور طب کی متعدد کتابوں کا
مطالعہ بڑی باریک بینی سے کیا۔ آپ کو جڑی بوٹیوں سے گہرا شغف تھا اور ان کی پہچان کا ملکہ حاصل تھا آخر کار انہوں
نے نباتات کے میدان میں اترنے کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ
بیماریوں کی شفاء کے لیے ہندوستان بھر سے جڑی بوٹیاں
حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ بقول حکیم محمد سعید ‘‘آپ
ایک بلند پایہ نبض شناس اور جڑی بوٹیوں کے ماہر بهى۔
حکیم عبدالمجید بڑی محنت سے حکیم اجمل خان کے ساتھ
کام کر رہے تھے کہ انھیں احساس ہوا کہ حکیم اجمل صاحب
ان کی دیانت پر شک کرنے لگے ہیں۔ غیرت فطرت نے یہ شبہ
برداشت نہ کیا اور اس عظیم انسان نے ایک تاریخ ساز فیصلہ
کیا۔ 1904 میں اپنے سسر شیخ کریم بخش صاحب سے کچھ
پیسے لے کر ہمدرد کی بنیاد ڈالی اور اس کے ساتھ ساتھ جڑی
بوٹیوں کی تجارت بھی شروع کی۔ ہمدرد دکان کو چلانے کے
لیے حکیم عبدالمجید نے نباتات سے دوائیں بنانا شروع کیں اور
ان کی اہلیہ رابعہ بیگم نے ہر مرحلے پر اپنے شوہر کا ہاتھ
حب مقوی معدہ’’ تھی۔
بٹایا۔ ہمدرد دواخانے کی پہلی دوائی ‘‘

رابعہ بیگم اور ان کی بہن فاطمہ بیگم دونوں عبدالمجید
صاحب کا ہاتھ بٹاتی تھیں اور سل بٹے سے نباتات پیس کر
ہاتھ سے گولیاں بناتی تھیں۔ حوض قاضی سے ہمدرد کیمنتقلی لال کنویں کی ایک دکان میں ہوئی اور جب اس کاروبار
میں وسعت پیدا ہوئی تو اس کو لال کنویں سے اس کی
ابتدائی جگہ منتقل کرنا پڑا۔
:حکیم استاد حسن خان
حکیم عبدالمجید کے همدرد دوا خانے میں حکیم استاد حسن
خان بھی طبیب اور ادویہ سازی کے شعبے سے وابستہ تھے۔ان
کا تعلق بھارتی صوبے اتر پردیش کے شہر سہارنپور سے تھا
لیکن تلاش معاش میں وہ دہلی آبسے تھے۔ پاکستان بننے کے
بعد وہ ہجرت کر کے کراچی آگئے۔ سن 2003 تک وہ کراچی
میں مقیم تھے اور ان کی عمر غالبا” 120 سال ہوگی۔ انہوں نے
ہی ایک انٹر ویو میں اپنی یادوں کے اوراق پلٹتے ہوئے روح
افزا کی تیاری کی داستان سنائ۔ یہی وہ پہلے شخص تھے
جنہوں نے روح افزا کا پہلا نسخہ ترتیب دیا تھا۔۔یہ سن 1907
کی بات ہے۔اس زمانے میں مختلف پھلوں، پھولوں اور جڑی
بوٹیوں کے شربت انفرادی طور پر دستیاب تھے۔ مثلا” شربت
گلاب، شربت، صندل، شربت انار، شربت سنگترہ، شربت کیوڑہ،
وغیرہ وغیرہ جو اپنی تاثیر اور ذائقے کے ٰلہز سے بھی مختلف
تھے۔۔ ہمدرد دوا خانہ کے بانی چاہتے تھے کہ پھلوں، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کو ملا کر ایک ایسا بے نظیر و بے مثال نسخہ
ترتیب دیا جائے جو ذائقے اور تاثیر میں اپنی مثال آپ ہو اور
ایسا معتدل ہو کہ بچے سے بوڑھا تک ہر مزاج کا شخص اس
کو استعمال کر سکے۔ یہیں سے روح افزا کی تیاری پر کام
شروع ہوا۔۔ حکیم استاد حسن خان نے اپنی تمام حکمت اور
خواص جڑی بوٹیاں کا تجربہ روح افزا کے نسخہ و ترکیب میں
سمو دیا۔۔اگر صرف روح افزا کی تیاری پر ہی ان کو استاد کے
لقب سے نوازا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔،لیکن کیسی افسوس اور
حیرت کی بات ہے کہ یہ شخص گمنامی کی زندگی بسر کرگیا
ورنہ بجا طور پر تمغہ حسن کار کردگی کا مستحق تھا۔ انڈیا
کے ہمدرد وقف دوا خانہ و لیبارٹریز کی ویب سائٹ پر ان کا
تعارف بحیثیت روح افزا کے اولین نسخہ ساز کی حیثیت سے
درج ہے۔
:روح افزا کا نسخہ
روح افزا میں شامل چیدہ چیدہ اجزا اپنی تاثیر میں بے مثل
تھے۔۔ جڑی بوٹیوں میں حکیم صاحب نے تخم
خرفہ،منقہ،کاسنی،نیلوفر، گائوزبان،ہرا دھنیا وغیرہ، پھلوں
میں سنگترہ، انناس، گاجر، تربوز، وغیرہ۔ سبزیوں میں سےپالک، پودینہ، ہرا کدو، وغیرہ۔۔ پھولوں میں، گلاب،
کیوڑہ،لیموں اور نارنگی کے پھولوں کا رس،، خوشبو اور
ٹھنڈک میں بے مثال خس اور صندل کی لکڑی وغیرہ۔۔ان تمام
اجزا اور عرقیات کو ایک خاص ترتیب سے ملا کر جو شربت
تیار ہوا وہ بلاشبہ روح افزا کہلانے کا ہی مستحق تھا۔ جو دہلی
میں اھلیان دھلی کے لئے مفرح قلب اورُ
شدید گرمی اور لا
تسکین جاں کا باعث ہوا۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے طب مشرق
پر چھا گیا اور ہندوستان میں اس کی مقبولیت کے ڈنکے بجنے
لگے۔ نواب اور راجہ مہاراجہ اس کے شوقین بن گئے۔ اور آج
تقریبا” 115 سال گزرنے کے باوجود اس کی مقبولیت میں کمی
نہیں آئ۔۔
:روح افزا کا نام
حکیم عبدالمجید دہلوی نے روح افزا کا نام پنڈت دیاشنکر
نسیم لکھنوی کی مثنوی گلزارِ نسیم کی ایک کردار حسین و
جمیل پری روح افزا کے نام پر رکھا تھا۔
ابتدا میں روح افزا کانچ کی سادہ سی بوتل پر سادہ دو رنگے
ریپر کے ساتھ پیش کیا گیا۔ بعد میں روح افزاء کا
مشہور و معروف پھلوں بھرا ریپر اور (لوگو) مولانا نور حسین نے 1923 میں ڈیزائن کیا تھا۔ انہوں ایک اور چیز بھی ڈیزائن
کی تھی ، تبت سنو کا پیکٹ اور جار پر موجود تصاویر ، ان
کے وہ دونوں ڈیزائین اس قدر با برکت ثابت ہوئے کہ آج دنیا
بھر میں وہ دونوں ڈیزائین اپنی پوری آب و تاب سے مقبول
ہیں ، کہیں بھی چلے جائیں ، روح افزا اور تبت سنو ضرور
ملیں گے ، مولانا نور حسین، حکیم عبدالمجید کے دوست تھے
ان کا پورا نام مولانا مرزا نور حسین تھا ، کمپیوٹر میں جو
اردو رسم الخط ھے وہ بھی مولانا مرزا نور حسین کے نام سے
منسوب ھے ، جسے خط نوری نستعلیق کہا جاتا ھے ، اردو زبان
کو وسعت نوری نستعلیق سے ملی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد حکیم محمد سعید پاکستان آگئے اور
یہاں ہمدرد دواخانے کی بنیاد ڈالی۔ جبکہ بھارت میں موجود
ہمدرد بدستور ان کے بڑے بھائ حکیم عبدالحمید کی زیر
نگرانی چلتا رہا۔ 1950 میں حکیم سعید نے مشرقی پاکستان
موجودہ بنگلہ دیش میں بھی ہمدرد دواخانہ شروع کردیا۔ آج
ان تینوں ممالک میں روح افزا ہمدرد (وقف) کی فیکٹریوں میں
تیار کیا جاتا ہے۔ بھارت میں تو روح افزا مسلمانوں کی تہذیب
اور معاشرت کا نمائندہ مشروب سمجھا جاتا ہے۔
اس میں کوئ شک نہیں کہ برصغیر میں بننے والا ہر لال شربت
دراصل روح افزا کی نقل ہے جن میں پاکستان میں احمد کا
نورس، شیزان کا ثمرقند، قرشی کا جام شیریں قابل ذکر ہیں۔
لیکن اس کے باوجود روح افزا کی طلب اور فروخت پر کوئ
ِ مشروب
اثر نہیں پڑا۔ اس برانڈ کی تشہیر ‘مشرق کی شان’
مشرق اور ‘علم اور حکمت’ (اس کی بھرپور تاریخ کی وجہ
سے) جیسے عنوانات کے ساتھ کی گئی۔ اسی کی دہائی کے
اوائل میں، روح افزا نے اپنے آپ کو ایک سرخیل کے طور پر
کھڑا کیا، اس کیپشن کے ساتھ ‘ہر نیا شربت سرخ ہے لیکن ہر
سرخ شربت روح افزا نہیں ہے’۔ اس طرح روح افزا پاکستان
میں ریڈ سیرپ کیٹیگری کی علمبردار بن گئی۔
اب سے کوئ بیس پچیس برس قبل ہمدرد اپنے روح افزا کے
اشتہار میں ٰ دعوی کرتے تھے کہ وہ اب تک اس مشروب کی
اتنی بوتلیں تیار کر چکے ہیں کہ اگر ان بوتلوں کو قطار سے
زمین پر رکھا جائے تو پورے کرہ ارض کے گرد ایک حلقہ مکمل
ہو جائے گا۔ افسوس کہ اب روح افزا کی نہ وہ خوشبو ہے اور
نہ وہ معیار۔۔حکیم سعید مرحوم جب تک حیات تھے تب تک
‘روح افزا’ بہرحال اپنا معیار ایک حد تک برقرار رکھے ہوئے تھا
لیکن ان کے بعد روح افزا بھی گویا اپنی روح سے محروم
ہوگیا۔ اس کی ایک توجیہہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ روح افزا
کی تیاری میں شامل کچھ اجزا اب انتہائ مہنگے داموں ملتے
ہیں
اور کچھ اجزا کو غالبا” بھارت سے بھی امپورٹ کیا جاتا ہے۔
انڈیا اور بنگلہ دیش کے ہمدرد دوا خانہ کا روح افزا بھی بہت
مشہور و مقبول ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں ہندوستانی اور
پاکستانی موجود ہیں وہاں وہاں روح افزا ایکسپورٹ کیا جاتا
ہے۔
کراچی کے ناظم آباد میں قائم ہمدرد فیکٹری کے اطراف کا
علاقہ آج بھی روح افزا کی خوشبو سے مہکتا رہتا ہے۔
ایک ایماندار اور نیک نیت شخص عوام سے اپنے خلوص اور ..
محبت کی وہ نشانی چھوڑگیا جو قلب و روح کی تسکین کا
باعث بنتا رہے گا۔ایک ایسا مشروب جو صرف تواضع کے لئے
استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہماری تہذیب و ثقافت اور روایت کا
حصہ بن چکا ہے۔ آج بھی اس کی خوشبو، ماضی کی یادوں کے نہ جانے کتنے دریچے کھول دیتی ہے۔

Leave A Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *