فالج سے بچاؤ کی تدابیر

فالج : اچانک دورہ پڑنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

فالج ایک ایسا مرض ہے جو دماغ میں خون کی شریانوں کے بند ہونے یا ان کے پھٹنے سے ہوتا ہے۔ جب فالج کا اٹیک ہوتا ہے تو دماغ کے متاثرہ حصوں میں موجود خلیات آکسیجن اور خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اس کے نتیجہ میں جسم کی کمزوری اور بولنے، دیکھنے میں دشواری سمیت اور بہت سی اور علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس سے جسم کا پورا، آدھا یا کچھ حصہ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہوسکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں معذور افراد میں سب سے زیادہ تعداد فالج سے متاثرہ افراد کی ہے۔ دنیا بھر میں ہر 10 سیکنڈ میں ایک فرد اس مرض کا شکار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کو فالج کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
اس بیماری کی بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، مرغن خوراک، سگریٹ نوشی اور تمباکو سے تیار کردہ مواد خصوصاً گٹکا شامل ہے۔ جسمانی مشقت نہ کرنے والے لوگ جب ورزش نہیں کرتے تو یہ فالج کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔

فالج دنیا بھر میں اموات کی تیسری بڑی اور طویل مدتی معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو فالج کا اٹیک ہو اور اس کے 3 گھنٹے کے اندر اسے طبی امداد فراہم کردی جائے تو اس شخص کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جاسکتا ہے۔ لیکن اکثر افراد کو علم نہیں ہو پاتا کہ انہیں یا ان کے قریب بیٹھے شخص کو فالج کا اٹیک ہوا ہے۔
اس سلسلے میں ماہرین کچھ طریقے تجویز کرتے ہیں جن کو اپنا کر فالج کی تشخیص کی جاسکتی ہے اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

فالج کی پہچان کرنے کے لیے 4 آسان طریقوں پر عمل کریں۔

اگر آپ کو کسی شخص پر گمان ہو کہ اسے فالج کا اٹیک ہوا ہے تو اسے مسکرانے کے لیے کہیں۔ فالج کا شکار شخص مسکرا نہیں سکے گا کیونکہ اس کے چہرے کے عضلات مفلوج ہوچکے ہوں گے۔
ایسے شخص سے کوئی عام سا جملہ ادا کرنے کے لیے کہیں، جیسے آج موسم اچھا ہے یا سب ٹھیک ہے۔ اگر اسے یہ بھی ادا کرنے میں مشکل ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسے فالج کا اٹیک ہوا ہے۔
اٹیک کے شکار شخص سے دونوں ہاتھ اٹھانے کے لیے کہیں۔ ایسی صورت میں فالج کا شکار شخص مکمل طور پر اپنے ہاتھ نہیں اٹھا سکے گا۔
فالج کے اٹیک کا شکار شخص اپنی زبان کو سیدھا نہیں رکھ سکے گا اور اس کی زبان دائیں یا بائیں جانب ٹیڑھی ہوجائے گی۔
یہ تمام کیفیات فالج کی واضح علامات ہیں، اگر آپ اپنے یا کسی دوسرے شخص کے اندر یہ کیفیات دیکھیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں

فالج کے دورے کی تشخیص کیسے کی جائے؟

*فالج سے بچاؤ*ماہرین صحت کے مطابق فالج سے بچاؤ کی آسان ترکیب متحرک زندگی گزارنا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف دس منٹ کی ورزش کرنے سے فالج کا خطرہ ایک تہائی حد تک کم ہوجاتا ہے۔
کھانے میں نمک اور مرغن غذاؤں کا استعمال کم کیا جائے۔
سگریٹ نوشی بھی فالج کی ایک وجہ ہے۔ اس عادت کو ترک کر کے فالج سے بچا جاسکتا ہے

*فالج کی علامات ، پرھیز اور علاج*(ڈاکٹر طلحہ عباس)

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے نئی نئی پریکٹس شروع کی تھی۔ ایک 15-16سال کا لڑکا آیا اور کہنے لگا کہ اس کے والد صاحب کی طبیعت خراب ہے اور وہ کلینک پر نہیں لا سکتا اور میں انہیں گھر جا کر دیکھوں۔میرا مریض ایک 50سالہ آدمی تھا جو کسی اچھی جگہ جاب کرتا تھا اور گزشتہ 3-2سال سے اس کے کئی آپریشن ہو چکے تھے اور کسی ایک آپریشن کے بعد اس کی دماغ کو خون پہنچانے والی نالیاں وقتی طور پر بند ہو گئی تھیں۔ نالیاں تو کھل گئیں مگر اس چھوٹے سے وقفے میں گھر کے اس واحد کمانے والے کو ساری عمر کے لئے اپاہج بنا گئیں۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے۔ اب اس انسان کو جو کہ اس گھرانے کا واحد کمانے والا تھا ہمہ وقت کئی چیزوں کی ضرورت تھی، کھانا وہ کھا نہیں سکتا۔ اس کو ناک کی نالی کی ضرورت ہے۔ وہ چل پھر نہیں سکتا۔ اس لئے کہ عام خوراک وہ ہضم نہیں کر پائے گا۔ اسے خاص پاؤڈر والی خوراک کی ضرورت ہے۔ رفع حاجت کے لئے اسے پیشاب کی نالی اور بیڈپین کی ضرورت ہے۔ پیشاب کی نالی زیادہ دیر لگنے سے گردوں کا انفیکشن ہو سکتا ہے۔ ایک ہی انداز میں زیادہ دیر لیٹنے سے پشت پر یا سر کے نیچے ، کہنیوں کے نیچے اور ایڑھیوں کے نیچے زخم بن جاتے ہیں۔ اس لئے اس مریض کو ایسا خدمتگار چاہئے جو اسے کروٹ دلاتا رہے، اسے نہلاتا رہے۔ اس کے گلے میں مصنوعی سانس کی نالی لگا دی گئی تھی۔ اس میں وقتاً فوقتاً بلغم پھنسنے سے سانس اکھڑنا شروع ہو جاتا تھا ۔ ہر آدھ گھنٹے کے بعد ایسا شخصچاہئے جو مشین سے اس کی سانس والی نالی صاف رکھے۔ ہم لوگ تو ایک منٹ میں سینکڑوں الفاظ بول جائیں مگر وہ بے چارا تو زبان بھی نہیں ہلا سکتا۔ کسیکو نہ تو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اشارہ دے سکتا ہے۔تکلیف یا خوشی کے موقع پر اپنا جسم اکڑا لیتا ہے اور سانس والی نالی سے تیز تیز سانس باہر نکالتا ہے۔غرض اس مریض کو ہر وقت ایک آدمی کی ضرورت ہے جو یہ سارے کام کرے ، اسے ورزش کروائے، وقت پر کروٹ بدلے، ہر وقت سانس کو بحال کر دے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس سب کا معاوضہ اسے یہ اپاہج آدمی نہیں دے سکتا کیونکہ بدقسمتی سے اسے تو ٹھیک ہونا ہی نہیں ہے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں اس عورت کو جس نے وفا کا حق ادا کر دیا اور اپنے خاوند کو پھولوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔مگر یہ تو اس کی زندگی کا ایک محاذ ہے جس پر وہ لڑ رہی ہے۔ اس کے تین بچے بھی ہیں جن کی تعلیم مکمل ہونا ہے۔ ان کے مستقبل بھی سنوارنا ہے۔ بیٹی کی شادی کرنی ہے مگر وہ گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتی۔ کہیں شوہر کی سانس ہی بند نہ ہو جائے۔ کہیں سارا دن وہ اپنے ہی پاخانے میں نہ پڑا رہے۔ اگر باہر نکلے گی بھی تو اس وقت جب بچے یا کوئی گھر پر موجود ہو گا

یہ ایک نہیں بہت سارے گھروں کی کہانی ہے مگر سب بیویاں یا مرد حضرات اتنے وفادار نہیں ہوتے مگر جو وفادار نہیں رہ سکتے ہیں،میں ان کو بھی اتنا قصور وار نہیں ٹھہراتا۔ بہت سی خواہشات ہوتی ہیں ۔ بہت سی ضروریات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو ایسے مریضوں کی گھر میں موجودگی سے پوری نہیں ہو سکتیں مگر پھر ایسے افراد جن پر یہ آزمائش آتی ہے یا جو اپنے خاندان کے لئے آزمائش بن جاتے ہیں ان کا کیا کیا جائے۔یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ فالج ہے کیا اور یہ کیوں ہوتا ہے کیا اس سے بچا جا سکتا ہے؟ کیا یہ خود بیماری ہے یا مختلف بیماریوں کی علامت ہے؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ اگر جان لیا جائے تو اس مرض سے بچا اور اسکا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

فالج کا تعلق دماغ کی مختلف بیماریوں سے ہے۔

دراصل دماغ ہی ہے جو انسانی جسم کی حرکات کو کنٹرول کرتا ہے۔ دماغ کو 4بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے جو سامنے والا حصہ ہوتا ہے جسےFrontal lobeکہتے ہیں اس کے حصے کے سب سے پچھلے حصے کو Motor Cortexکہتے ہیں۔ یہ سر کے اوپر سے شروع ہو کر آگے کی طرف بڑھتا ہے اور کان کے تھورا سا آگے تک آکر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک پٹی کی صورت میں ہوتا ہے اور اس پر انسانی جسم کے اعضاء کی ترتیب الٹی ہوتی ہے مثلاً وہ حصہ جو چہرے کے پٹھوں کو کنٹرول کرتا ہے سب سے نیچے یعنی کان کے پاس ہوتا ہے اور ٹانگیں اور پاؤں کو کنٹرول کرنے والا حصہ، اوپر کی طرف ہوتا ہے۔ دائیں طرف سے جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول ہوتا ہے اور بائیں طرف سے دائیں طرف والا جسم کنٹرول ہوتا ہے۔کوئی بھی بیماری جو دماغ کے اس حصے پر اثر انداز ہوتی ہے، فالج کر سکتی ہے۔ اس میں دماغ کی شریان بند ہو جانا یا پھٹ جانا سب سے عام وجوہات ہیں۔ دماغ آکسیجن کی کمی کو بہت تھوڑی دیر کے لئے برداشت کر سکتا ہے۔ خون کی نالیاں پھیپھڑوں سے آکسیجن جذب کرکے ایک یا دو سکینڈ میں دماغ کو پہنچا دیتی ہیں۔ اگر یہ رسد ایک یا دو منٹ کے لئے بھی بند ہو جائے تو دماغ کو شدید ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض اوقات بزرگ یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ صبح وضو کے لئے اٹھا تو پاؤں یا ہاتھ نہیں ہل رہا تھا پھر تھوڑی دیر کے بعد ٹھیک ہوگیا۔ یہ فالج کی ابتدائی علامت ہے اور یہ اس لئے بہت اہم ہے کہ ایسے افراد میں Strokeاور مکمل فالج ہونے کے امکانات عام آدمیوں سے تقریباً25 %زیادہ ہو جاتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب مکمل فالج کو روکا جا سکتا ہے۔مکمل فالج سے میری مراد جب جسم کا آدھا حصہ مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے اور اگر دائیں جانب زیر اثر ہو تو انسان بولنے کی طاقت کھو دیتا ہے کیونکہ بولنے کی طاقت دائیں دماغ میں بائیں جانب ہوتی ہے۔ایسے افراد جن کا ہاتھ یا پاؤں یا زبان تھوڑی دیر کے لئے کام کرنا چھوڑ دے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے

۔ سی ٹیسکین کروانے کے بعد انہیں خون پتلا کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد وجہ معلوم کی جاتی ہے۔

عام طور پر وجہ دل میں گلے کی نالیوں یا دماغ کی خون کی شریانوں میں ہوتی ہے۔خون پتلا کرنے والی ادویات بقیہ عمر کھانی پڑتی ہیں کیونکہ اگر ایک دفعہ خون گھاڑا ہو یا خون میں کلاٹ بنیں تو دوبارہ فالج بننے کا خطرہ ساری عمر رہتا ہے۔فالج کی وجہ خون بند ہو جانا ہی نہیں دماغ میں شریان پھٹ جانا بھی ہے۔ اس صورت میں سر میں بہت سخت درد ہوتا ہے۔ مریض بے ہوش ہو جاتا ہے اور اسی دوران موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ شریان پھٹنے کے بعد فالج بہت جلد ہو جاتا ہے۔ جب کہ شریان بند ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی فالج ظاہر ہوتا ہے۔ سی ٹی سکین کروانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پتا چلے کہ دماغ کی شریان پھٹی ہے یا بند ہوئی ہے۔ اگر تو شریان بند ہو تو خون پتلا کرنے والی ادویات انتہائی ضروری ہیں اور اگر شریان پھٹ گئی ہے تو خون پتلا کرنے والی ادویات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔اگر فالج چند دنوں سے چند مہینوں میں آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہو تو اس کی وجہ دماغ کا انفکیشن یا دماغ کی رسولی ہو سکتی ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج سے کسی حد تک فالج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اگر ایک دفعہ فالج ہو چکا ہے تو اس کا علاج خون پتلا کرنے والی ادویات اور ورزشیں ہی ہیں۔ بعض افراد خوراک خود نہیں کھا سکتے۔ اس لئے انہیں ناک کی نالی ڈلواناپڑتی ہے۔ اگر سانس بند ہو رہا ہو یا کھانسی کرنے کی طاقت ختم ہو جائے تو گلے کی نالی لگانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ورزش پر خصوصی دھیان دینا پڑتا ہے۔ عموماً فالج زدہ افراد چلنا پھرنا شروع کر دیتے ہیں اور مکمل نہیں تو جزوی طور پر اپنے آپ کو سمجھا لینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر ان کی پہلے دن سے ورزش شروع نہ کی جائے تو حرکت نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ پاؤں دردکرنا شروع ہو جاتے ہیں اور آخر کار بالکل ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ایسے ہاتھوں اور پاؤں سے درد کبھی نہیں جاتا۔جہاں تک فالج کے بچاؤ کا تعلق ہے تو اس میں تقریباً وہی احتیاطیں ہیں جو دل کے دورے کے لئے ہیں۔ ورزش، متوازن خوراک جس میں چکنائی کم سے کم ہو۔ سگریٹ نوشی سے پرہیز بہت ضروری ہے۔ عام طور پر ان افراد میں جن کی فیملی میں یہ امراض ہوں انہیں باقاعدہ چیک اپ کروانا چاہئے۔

Leave A Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *